ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیا مودی لوگوں کو ’جاہلوں کا گروہ‘ سمجھتے ہیں: چدمبرم

کیا مودی لوگوں کو ’جاہلوں کا گروہ‘ سمجھتے ہیں: چدمبرم

Sun, 28 Apr 2019 23:10:56    S.O. News Service

نئی دہلی، 28؍اپریل (ایس او نیوز؍یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک انتخابی ریلی میں ذات برادری سے متعلق تبصرے پر جاری بیان بازیوں کے درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے سخت طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم لوگوں کو ایسے ' جاہلوں کا گروہ ' سمجھتے ہیں جن کی يادداشت ختم ہو گئی ہے۔

نریندر مودی نے ہفتہ کے روز قنوج میں ایک جلسہ عام میں کہا تھا کہ وہ ذات پات کی سیاست نہیں کرتے ہیں، لیکن یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ پسماندہ نہیں، بلکہ انتہائی پسماندہ ذات سے ہیں اور ان کا مقصد اعلی ذات اور پسماندہ ذات کے لوگوں کو آگے لے جانا ہے تاکہ ملک کی ترقی ہو سکے۔ اس بیان کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران ان پر حملہ آور ہو گئے اور کہا کہ وزیر اعظم سیاسی فائدہ لینے کے لئے ذات پات کا استعمال کر رہے ہیں۔

بہوجن سماج پارٹی لیڈر محترمہ مایاوتی اور سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو کے بعد آج چدمبرم نے بھی مودی پر نشانہ لگاتے ہوئے ٹوٹ کیا کہ "2014 اور اس کے بعد انہوں نے بار بار کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ لوگوں نے ایک چائےوالے کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی ان چاے والا ہونے کی بات نہیں کہی۔ وزیر اعظم ہمیں کیا سمجھتے ہیں۔ 'ایسے جاہلوں کا گروہ' جن کی یاد داشت چلی گئی ہے؟

ایک دوسری ٹوئیٹ میں چدمبرم نے لکھا کہ ’’نریندر مودی ایسے پہلے شخص ہیں جو وزیر اعظم بنے اور 2014 کی انتخابی مہم میں ہاتھ میں تختی لہراتے ہوئے چلے جس پر لکھا تھا کہ 'میں او بی سی ہوں۔‘‘

نریندر مودی نے اپنے انتخابی جلسے میں کہا تھا کہ "میں کبھی بھی ذات پات کے نام پر سیاست کا حامی نہیں رہا۔ جب تک میرے مخالفین نے مجھے گالی نہیں دی، اس ملک کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میری ذات کون سی ہے لیکن اب میں بہن جی، اکھلیش جی اور کانگریس کا شکر گزار ہوں کہ وہ میری پسماندگی پر بحث کر رہے ہیں۔ آپ کے لئے پسماندہ ذات میں پیدا ہونا سیاست کا کھیل ہوگا، میرے لئے ماں بھارتی کی خدمت کرنے کا موقع ہے۔ میری ذات اتنی چھوٹی ہے کہ گاؤں میں اس ذات کا ایک آدھ گھر بھی نہیں ہوتا ہے۔ میں تو صرف اتنا چاہتا ہوں کہ پورے ملک کے اعلی ذات اور پسماندہ ذات کے لوگ آگے ہوں تاکہ ملک کی ترقی ممکن ہو سکے"۔

محترمہ مایاوتی نے اس پر کہاکہ ’’نریندر مودی کو میں نے کبھی نیچ نہیں کہا۔ بلکہ میں نے کہا تھا کہ مودی سیاسی فائدہ کے لئے او بی سی بن گئے ہیں۔ ہم ان کا مکمل احترام کرتے ہیں اور یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اعلی ذات سے آتے ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ واقعی اعلی ذات ہی پسماندہ ہیں۔ یہاں تک کہ کانگریس بھی دلت اور پسماندہ طبقات کی مخالفت میں تھی اسی وجہ سے انہوں نے منڈل کمیشن کی رپورٹ نافذ نہیں ہونے دی تھی۔ دونوں پارٹیوں کوسمجھنا چاہیے کہ دلت کارڈ کھیلنے سے اب ان کی مدد نہیں ہونے والی ہے‘‘۔

اکھیلیش یادو نے بھی مودی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے پوچھا کہ ’’جب مایاوتی کی توہین کی گئی، اس وقت وزیر اعظم کہاں تھے؟ جب یوگی آدتیہ ناتھ نے مہا گٹھ بندھن کو ’کیڑا مكوڑا‘ کہا تب وزیر اعظم خاموش کیوں تھے؟‘‘


Share: